01-Apr-2022 غزل
غزل
ہے کیا عجب کہ یہ دستور بھی زمانے کا
گلوں کو شوق ہے خاروں میں گھر بسانے کا
خزاں کے آنے کا پیغام دے رہی ہے بہار
نہ جانے کیا ہو اب انجام آشیانے کا
اُڑھا دی لاش پے میری غُبار نے چادر
ہے رائگاں تیرا مقصد کفن اوڑھانے کا
شبِ فراق گزاری ہے اشک باری میں
گواہ ذرّہ تلک ہے غریب خانے کا
زمانہ اور بھی غم دے تو غم نہیں باقر
ہمیں تو ہو گیا اب شوق غم اٹھانے کا
باقر رضا رضوی